دبئی میں گرفتار بھارتی باشندے کا تعلق نریندرا مودی کی پارٹی سے۔ شناختی کارڈ جاری

کل دبئی میں رہنے والے ایک بھارتی باشندے کو دبئی پولیس نے گرفتار کیا تھا تھا،اس نے اسلام اور مسلمانوں پر نفرت انگیز پوسٹ ڈالے تھے۔ آج اس کا شناختی کارڈ جاری کیا گیا۔
اس میں فیس بک پر مذہب اسلام کی توہین کی تھی اور مسلمانوں کو خنزیر سے تشبیہ دی تھی۔
ایسا کرتے ہی اس کا پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمان اس پر ناراضگی جتانے لگے، کسی نے اس کی کمپنی کو بھی جانکاری دے دی اور کمپنی نے ایک گھنٹے میں ہی اسے کمپنی سے نکال کر پولیس کے حوالے کردیا۔
اس کا نام راکیش کتورمات ہے
اور آج اس کا بھارت میں برسراقتدار بھارتی جنتا پارٹی سے تعلق بتانے والا شناختی کارڈ جاری ہوا ہے۔
اس کی Emrill Services میں بہت اچھی نوکری تھی
کمپنی کے سی ای او نے میڈیا کو بتایا
“ہم نے راکیش کو کمپنی سے نکال باہر کیا ہے، تھوڑی دیر میں اسے ہم پولیس کے حوالے کر دیں گے، ہمارے ہاں مذہبی منافرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، نا ہی یہ قابل برداشت عمل تھا”
“ہماری کمپنی میں سبھی مذاہب کے لوگ کام کرتے ہیں،مل جل کر سارے تیوہار اور عید مناتے ہیں،ہمارے سوشل میڈیا استعمال کے ضوابط بہت سخت ہیں، چاہے وہ استعمال آفس میں رہتے ہو ہوئے ہوا ہو یا آفس سے باہر, اس وجہ سے ہم نے راکیش کو فورا باہر کرنے کا فیصلہ لیا”
راکیش بھارتی ریاست کرناٹکا کے Ranebennuri شہر کا رہنے والا ہے۔
ابھی پچھلے ہفتے متیش نام کا ایک بھارتی شہری اسلام کا مذاق اڑانے والے ایک کارٹون شیئر کرنے کی وجہ سے سے دبئی میں گرفتار ہوا تھا۔
مارچ 2020 میں دبئی کے ایک ہوٹل کے باورچی کو دہلی کی ایک طالبہ کی عصمت دری کی دھمکی دینے کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔
اسی طرح جنوری 2020 میں جیانت گوکھلے نام کے ایک بھارتی شہری کو کیرلا کے رہنے والے عبداللہ کو نوکری مانگنے پر شاہین باغ مظاہرے میں شرکت کے مشورے پر کمپنی سے نکالا گیا تھا تھا۔
مارچ 2019 میں ٹرانس گارڈ گروپ کے سکیورٹی افسر کو نیوزی لینڈ مسجد پر دہشت گردانہ حملے پر خوشی ظاہر کرنے کی وجہ سے کمپنی سے نکال کر کے اسی دن انڈیا بھیج دیا گیا تھا۔
جون 2018 میں ابوظبی کی ایک کمپنی کے سپروائزر کو کیرلا کے وزیر اعلیٰ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کی وجہ سے کمپنی سے نکال کر کے بھارت بھیج دیا گیا تھا۔
جون 2018 میں جی ڈبلیو میریئٹ ہوٹل کے باورچی اتول کو کو یہ کہنے پر نکال دیا گیا تھا کہ اسلام مذہب نے دوہزار سال سے ہندو دھرم پر ظلم روا رکھا ہے۔
اپریل 2017 میں بھارتی صحافی رعنا ایوب کو فیس بک پر گندی گالیاں دینے کی وجہ سے ایک 33 سالہ بھارتی کو کمپنی سے نکال کر کے پہلی فلائٹ سے بھارت بھیج دیا گیا تھا۔
عرب امارات میں دھرم پر منافرت بھرے پوسٹ ڈالنے کو لے کر کے بہت سخت قوانین 2015 سے نافذ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here